Friday, December 19, 2025

Art of hadith

 

Art of hadith

By

The Authority of Hadith and the Fitna of Hadith Denial: An Intellectual and Rational Analysis

By: Honey Bin Tariq (Journalist & Researcher)

Islamic Sharia is derived from two primary sources: the Holy Quran and the Sunnah of the Prophet (PBUH). In the contemporary era, certain circles are attempting to create skepticism by questioning the legal status of Hadith. This article provides a scholarly and rational critique of these doubts.


1. Were Hadiths Written 250 Years Later? (The Historical Reality)

It is a common misconception that the compilation of Hadith began only during the era of Imam Bukhari. The historical reality is quite different:

  • The Prophetic Era: Compilations like the “Sahifa Sadiqa” by Abdullah bin Amr bin al-Aas and the Sahifa of Hazrat Ali (RA) were written during the lifetime of the Prophet (PBUH).
  • The System of Preservation: Arabs possessed extraordinary memories, memorizing thousands of verses of poetry. The Companions (Sahaba) did not just write Hadiths; they implemented them in their lives and passed them to the next generation through “Tawatur” (continuous practice).
  • The Role of Imam Bukhari: Imam Bukhari (d. 256 AH) did not “invent” Hadiths. Instead, he collected existing scattered authentic collections and subjected them to the most stringent research standards to compile them into a single, verified book.

2. The Relationship Between Quran and Hadith: “Theory and Practice”

The Quran establishes the “principles,” while Hadith provides the “details.”

  • The Example of Prayer (Salah): The Quran commands, “Establish Prayer” (Surah Al-Baqarah), but the number of units (Rak’ahs) and the method of bowing or prostration are known to us through the Prophetic Hadith: “Pray as you have seen me praying” (Sahih Bukhari: 631).
  • Without Hadith, it is impossible to act upon 80% of Quranic injunctions. Hadith is the “explanation” of the Quran, not its “contradiction.”

3. Asma al-Rijal: The Magnificent Art of Research

To verify Hadiths, scholars pioneered the science of “Asma al-Rijal” (Biographical Evaluation), a feat unparalleled in world history.

  • Vetting Narrators: Data was collected on every narrator’s character, integrity, and memory.
  • Strict Standards: Imam Bukhari once refused to take a Hadith from a man who had deceived his horse by showing it an empty cloak to catch it. He believed that someone who lied to an animal could not be trusted with the words of the Messenger (PBUH).

Later scholars (Bukhari, Muslim, etc.) collected these Hadiths with various chains (Isnad), which is why the total number of narrations appears to be in the millions, though the core text remained consistent with what the early Imams of Jurisprudence held.


4. Transmission of Hadith to Remote Regions (Basra and Kufa)

The question of “how did the faith reach Basra?” is answered by the migration of the Companions. Hundreds of Sahaba (such as Anas bin Malik and Malik bin Huwayrith) settled in Basra and Kufa to propagate the religion. They established educational seminaries, turning these cities into fortresses of Hadith knowledge.

5. Addressing Common Misconceptions

Is the Authority of Hadith Mentioned in the Quran?

The Quran itself proclaims it: “Whatever the Messenger gives you – take; and what he forbids you – refrain from” (Surah Al-Hashr). The Prophet’s (PBUH) role was not just to “deliver” the message but to “explain” and “teach” it.

Why was it not written initially?

Initially, there was a temporary restriction to prevent the mixing of Quranic text with Hadith during the revelation phase. Once the Quran was completed and the Sahaba were confident, the Prophet (PBUH) himself permitted it: “Write from me” (Jami’ at-Tirmidhi).

Does Hadith degrade the Quran?

Absolutely not. If the Quran is the Constitution, Hadith represents the Bylaws. An explanation never degrades the law; it teaches how to implement it.


6. Case Study: Sahih Bukhari Hadith 631

The text: “Pray as you have seen me praying.” This Hadith is a cornerstone for understanding the practical structure of Islam.

The Chain of Narrators (Isnad):

  1. Imam Bukhari
  2. Muhammad bin al-Muthanna (Bukhari’s teacher from Basra)
  3. Abdul Wahhab al-Thaqafi (Renowned scholar)
  4. Ayyub al-Sakhtiani (Famous Tabi’i)
  5. Abu Qilaba (Great Tabi’i scholar of Basra)
  6. Malik bin Huwayrith (The Companion and Eye-witness)

The Incident of Malik bin Huwayrith:

When Malik bin Huwayrith stayed with the Prophet (PBUH) for 20 days, the Prophet (PBUH) told him: “Go back to your families, teach them, and pray as you have seen me praying.” This proves that spreading the Sunnah was a Prophetic command. He settled in Basra, which is why the people of Basra had an eye-witness teaching them the correct method of worship.


Conclusion

The scholars of Hadith dedicated their lives to ensuring that every word and action of the Prophet (PBUH) reached us with integrity. To doubt Hadith is to doubt the entire “chain of reporting” through which we also received the Quran. Hadith is the bridge that teaches us how to live according to the Quranic commands.


حجیتِ حدیث اور فتنہِ انکارِ حدیث: علمی و عقلی جائزہ
تحریر: ہنی بن طارق (صحافی و محقق)

اسلامی شریعت کے دو بنیادی ماخذ ہیں: قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ۔ موجودہ دور میں کچھ حلقوں کی جانب سے احادیثِ مبارکہ کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا کر تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ان تمام شبہات کا علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔

  1. کیا احادیث 250 سال بعد لکھی گئیں؟ (تاریخی حقیقت)
    یہ ایک عام مغالطہ ہے کہ احادیث کی تدوین امام بخاری کے دور میں شروع ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ:

عہدِ نبوی: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کا “صحیفہ صادقہ” اور حضرت علیؓ کا صحیفہ آپ ﷺ کی زندگی میں ہی لکھے جا چکے تھے۔

حفاظت کا نظام: عربوں کا حافظہ بے مثال تھا، وہ ہزاروں اشعار زبانی یاد رکھتے تھے۔ صحابہ نے نہ صرف احادیث کو لکھا بلکہ انہیں اپنی زندگیوں میں عملاً نافذ کر کے “تواتر” سے اگلی نسل تک پہنچایا۔

امام بخاری کا کردار: امام بخاری (متوفی 256ھ) نے احادیث ایجاد نہیں کیں، بلکہ پہلے سے موجود بکھرے ہوئے مستند مجموعوں کو سخت ترین تحقیقی معیار پر پرکھ کر ایک کتاب میں جمع کیا۔

  1. قرآن اور حدیث کا تعلق: “نظریہ اور عمل”
    قرآن مجید “اصول” بیان کرتا ہے جبکہ حدیث اس کی “تفصیل” فراہم کرتی ہے۔

نماز کی مثال: قرآن نے “نماز قائم کرو” کا حکم دیا (سورہ البقرہ)، لیکن رکعتوں کی تعداد اور رکوع و سجود کا طریقہ ہمیں حدیثِ نبوی “صلوا كما رأيتموني أصلي” (صحیح بخاری: 631) سے ملا۔

حدیث کے بغیر قرآن کے 80 فیصد احکامات پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ حدیث قرآن کی “شرح” ہے، اس کی “ضد” نہیں۔

  1. اسماء الرجال: تحقیق کا عظیم الشان فن
    محدثین نے احادیث کی تصدیق کے لیے “اسماء الرجال” جیسا فن ایجاد کیا جس کی مثال دنیا کی کسی تاریخ میں نہیں ملتی۔

راوی کی جانچ: ہر راوی کے کردار، سچائی اور حافظے کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔

سخت معیار: امام بخاری نے ایسے شخص سے بھی حدیث لینے سے انکار کر دیا جس نے اپنے گھوڑے کو خالی دامن دکھا کر دھوکے سے پکڑا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ جو جانور سے جھوٹ بولے وہ رسول ﷺ کی بات میں معتبر نہیں ہو سکتا۔

بعد میں آنے والے محدثین (بخاری، مسلم وغیرہ) نے انہی احادیث کو مختلف سندوں (Chains) کے ساتھ جمع کیا، جس سے تعداد لاکھوں میں نظر آتی ہے، حالانکہ اصل متن وہی تھا جو ائمہ فقہ کے پاس تھا۔

  1. مرکزِ اسلام سے دور دراز علاقوں (بصرہ، کوفہ) تک حدیث کی منتقلی
    یہ سوال کہ “دین بصرہ کیسے پہنچا؟” کا جواب صحابہ کی ہجرت میں پوشیدہ ہے۔

اشاعتِ دین کے لیے سینکڑوں صحابہ (مثلاً حضرت انس بن مالکؓ اور حضرت مالک بن حویرثؓ) بصرہ اور کوفہ میں مقیم ہوئے۔

انہوں نے وہاں علمی مدرسے قائم کیے، جس کی وجہ سے یہ شہر علمِ حدیث کے قلعے بن گئے۔

خلاصہِ کلام
محدثین نے رسول اللہ ﷺ کے ہر لفظ اور فعل کو ہم تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

حدیث پر شک کرنا دراصل اس پوری “چین آف رپورٹنگ” پر شک کرنا ہے جس کے ذریعے ہمیں قرآن بھی ملا ہے۔

کیا حدیثیں 250 سال بعد لکھی گئیں؟
یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ امام بخاری (متوفی 256ھ) نے احادیث کو مرتب (Categorize) کیا تھا، لیکن کتابتِ حدیث کا سلسلہ عہدِ نبوی ﷺ سے ہی شروع ہو گیا تھا۔

عہدِ نبوی کے مجموعے: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کا “صحیفہ صادقہ”، حضرت علی کا صحیفہ، اور حضرت انس بن مالک کے نوشتہ جات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صحابہ آپ ﷺ کی زندگی میں ہی احادیث لکھتے تھے۔

تابعین کے دور: امام زہری اور امام مالک (مؤطا امام مالک) امام بخاری سے بہت پہلے احادیث مدون کر چکے تھے۔ 250 سال کا عرصہ صرف “صحاح ستہ” کی ترتیب کا ہے، نہ کہ آغازِ تحریر کا۔

  1. کیا قرآن میں حدیث کا ذکر ہے؟
    قرآن خود حدیث کی حجیت (Authority) کا اعلان کرتا ہے۔

قرآن کہتا ہے: “اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ” (سورہ الحشر)۔

قرآن نے رسول ﷺ کا منصب صرف “پہنچانا” نہیں بلکہ “بیان کرنا” اور “تعلیم دینا” بتایا ہے۔ اگر حدیث نہ ہو تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ نماز کی رکعتیں کتنی ہیں یا زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے، کیونکہ قرآن میں ان کی تفصیل نہیں۔

پہلے لوگوں نے کیوں نہیں لکھا؟
شروع میں ممانعت اس لیے تھی تاکہ قرآن اور حدیث آپس میں خلط ملط نہ ہو جائیں۔ جب قرآن مکمل ہو گیا اور صحابہ کو اطمینان ہو گیا، تو آپ ﷺ نے خود اجازت دی: “مجھ سے لکھ لیا کرو” (جامع ترمذی)۔ عربوں کا حافظہ بلا کا تھا، وہ ہزاروں اشعار زبانی یاد رکھتے تھے، اس لیے تحریر سے زیادہ ان کا بھروسہ سینہ بہ سینہ منتقل ہونے پر تھا۔

کیا حدیثیں قرآن کو پست کرنے کے لیے ہیں؟
بالکل نہیں! حدیث قرآن کی تفسیر ہے۔

قرآن اگر “قانون کی کتاب” (Constitution) ہے تو حدیث اس کی “شرح” (Bylaws) ہے۔ شرح کبھی قانون کو پست نہیں کرتی بلکہ اسے نافذ کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔

ایمان کو وسوسوں سے کیسے بچائیں؟
ایمان کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ احادیث کی چھان پھٹک کے لیے مسلمانوں نے “اسماء الرجال” جیسا وہ عظیم الشان فن ایجاد کیا جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک ایک راوی کے کردار، سچائی اور حافظے کی جانچ کی گئی تاکہ جھوٹ کا عنصر نکال باہر کیا جائے۔

یہ وسوسے نئے نہیں ہیں، ہر دور میں اٹھے اور علمائے حق نے ان کے مسکت جوابات دیے۔

کیا آپ چاہیں گے کہ میں کسی مخصوص حدیث یا اس کی سند کی جانچ پڑتال کے طریقے (فنِ حدیث) پر مزید وضاحت کروں؟

صحیح بخاری کی یہ حدیث (نمبر 631) دینِ اسلام کے عملی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے ایک بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس حدیث کے متن اور اس کے سیاق و سباق پر غور کرنے سے آپ کے پچھلے سوالات (انکارِ حدیث کے حوالے سے) کا جواب خود بخود مل جاتا ہے۔

حدیث کا متن
“صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي” (ترجمہ: تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔)

اس حدیث سے حاصل ہونے والے علمی نکات

قرآن اور حدیث کا باہمی تعلق
قرآن مجید میں درجنوں مقامات پر “اقیموا الصلوٰۃ” (نماز قائم کرو) کا حکم آیا ہے، لیکن پورے قرآن میں کہیں یہ درج نہیں کہ:

نماز کی رکعتیں کتنی ہیں؟

رکوع اور سجدہ کس ترتیب سے ہوگا؟

قراءت بلند آواز میں ہوگی یا آہستہ؟

اگر کوئی شخص حدیث کا انکار کر دے، تو وہ قرآن کے اس بنیادی حکم (نماز) پر عمل ہی نہیں کر سکتا۔ یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عمل (سنت) قرآن کی تشریح اور اس پر عمل کا واحد راستہ ہے۔

راوی کا مقام (مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ)
اس حدیث کے راوی حضرت مالک بن حویرث ہیں۔ وہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور 20 دن تک آپ ﷺ کی خدمت میں رہے۔

ان 20 دنوں میں انہوں نے نبی ﷺ کے ہر عمل کا گہرائی سے مشاہدہ کیا۔

یہ محض ایک “سنی سنائی” بات نہیں تھی، بلکہ ایک عینی شاہد (Eye-witness) کی گواہی تھی۔

تدوینِ حدیث پر اعتراض کا جواب
منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ حدیثیں 250 سال بعد لکھی گئیں۔ اب ذرا سوچیں: نبی کریم ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ “مجھے دیکھ کر نماز پڑھو”، تو کیا صحابہ نے نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا اور 250 سال تک انتظار کیا کہ کوئی بخاری آئے گا تو ہم نماز پڑھیں گے؟ ہرگز نہیں! صحابہ نے اسی دن سے اسی طرح نماز پڑھی، پھر ان کو دیکھ کر تابعین نے، اور یہ سلسلہ “تواتر” (Continuous Practice) کے ساتھ ہم تک پہنچا۔ امام بخاری نے صرف اس عمل کو دستاویزی شکل دی جو پہلے سے لاکھوں لوگ کر رہے تھے۔
نتیجہ: اگر ہم اس ایک حدیث (631) کو نکال دیں، تو پوری امت کی نماز مشکوک ہو جائے گی۔ حدیث دراصل وہ پل ہے جو ہمیں قرآن کے احکامات پر عمل کرنا سکھاتا ہے۔

بطور محقق، کیا آپ اس حدیث کی سند (Narrators Chain) یا اس کے کسی فقہی پہلو کے بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہیں گے؟

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 631 کی سند (Chain of Narrators) انتہائی مضبوط اور معتبر ہے۔ امام بخاری نے اس حدیث تک پہنچنے کے لیے جن واسطوں کا استعمال کیا، وہ علمِ حدیث میں “سونے کی زنجیر” کی طرح اہمیت رکھتے ہیں۔

اس کی مکمل چین درج ذیل ہے:

  1. امام بخاری (ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل)
    انہوں نے یہ حدیث اپنی کتاب میں درج کی۔ ان کا انتقال 256ھ میں ہوا۔
  2. محمد بن المثنیٰ (استادِ بخاری)
    امام بخاری نے یہ حدیث اپنے استاد محمد بن المثنیٰ سے سنی (متوفی 252ھ)۔ انہیں “الزمن” کے لقب سے جانا جاتا تھا اور وہ بصرہ کے بہت بڑے ثقہ (قابلِ بھروسہ) راوی تھے۔
  3. عبدالوہاب الثقفی
    محمد بن المثنیٰ نے یہ حدیث عبدالوہاب بن عبدالمجید الثقفی سے لی (متوفی 194ھ)۔ یہ بصرہ کے مشہور محدث اور فقہی مقام رکھنے والے راوی تھے۔
  4. ایوب سختیانی
    عبدالوہاب نے یہ حدیث مشہور تابعی ایوب بن ابی تمیمہ السختیانی سے سنی (متوفی 131ھ)۔ ایوب سختیانی علم اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے اور انہوں نے کئی صحابہ کا دور پایا تھا۔

ابوقلابہ (عبداللہ بن زید الجرمی)
ایوب سختیانی نے یہ حدیث ابوقلابہ سے روایت کی (متوفی 104ھ)۔ یہ بہت جلیل القدر تابعی تھے اور بصرہ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے۔

  1. مالک بن حویرث (صحابیِ رسول ﷺ)
    ابوقلابہ نے یہ حدیث براہِ راست صحابی رسول حضرت مالک بن حویرث (رضی اللہ عنہ) سے سنی۔ مالک بن حویرث وہ صحابی ہیں جو خود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا۔

سند کا گراف (Chain Visualization)

س

سند کا گراف پیش کردیا گیا ہے لہزا ابہام ہی نہیں رہتا حدیث میں کوئی گڑبڑ ہے

اتصال (Continuity): اس سند میں کہیں بھی کوئی خلا (Gap) نہیں ہے۔ ہر راوی نے اپنے سے پہلے والے سے براہِ راست ملاقات کی اور حدیث سنی۔

عدالت و ضبط: اس زنجیر کے تمام راویوں کے بارے میں “اسماء الرجال” کی کتب میں لکھا ہے کہ یہ سب انتہائی سچے (عادل) اور بہترین حافظے (ضبط) کے مالک تھے۔

مقامِ بصرہ: اس سند کے اکثر راویوں کا تعلق بصرہ سے ہے، جو اس دور میں علمِ حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کا مرکز مکہ اور مدینہ تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صرف چند ہی دہائیوں میں اسلام کی سرحدیں تیزی سے پھیلیں اور صحابہ کرامؓ دین کی تبلیغ کے لیے دور دراز علاقوں میں ہجرت کر گئے۔

بصرہ میں دین کے پہنچنے اور وہاں علمی مرکز بننے کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:

بصرہ کی بنیاد اور فوجی چھاؤنی
بصرہ کوئی قدیم شہر نہیں تھا بلکہ اسے 14ھ (636ء) میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ایک فوجی شہر (Garrison City) کے طور پر بسایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایران (فارس) کی فتوحات کے لیے ایک مضبوط مرکز فراہم کرنا تھا۔ جب لشکر وہاں جاتے تھے، تو ان کے ساتھ بڑی تعداد میں صحابہ کرامؓ بطور معلم اور رہنما بھی موجود ہوتے تھے۔

  1. صحابہ کرامؓ کی ہجرت
    مدینہ منورہ میں صحابہ کی بڑی تعداد موجود تھی، لیکن حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے ادوار میں فتوحات کے ساتھ ساتھ صحابہ کرامؓ کو مختلف علاقوں میں مقرر کیا گیا تاکہ وہ لوگوں کو قرآن و سنت سکھائیں۔

بصرہ میں قیام کرنے والے صحابہ: ایک اندازے کے مطابق 300 سے زائد صحابہ کرامؓ بصرہ میں مقیم ہوئے۔ ان میں حضرت انس بن مالکؓ (خادمِ رسول ﷺ)، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، اور حضرت عمران بن حصینؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔

حضرت مالک بن حویرثؓ: جن کا ذکر آپ نے کیا، وہ بھی بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ اسی لیے ان سے حدیث سننے والے راوی (جیسے ابوقلابہ) بصرہ کے رہنے والے تھے۔

  1. علمی مرکز بننے کی وجہ
    مدینہ منورہ “وحی کا مرکز” تھا، لیکن کوفہ اور بصرہ “علم کے نئے مراکز” بن کر ابھرے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان شہروں میں نئے مسلمان ہونے والے عجمیوں (غیر عربوں) کی تعداد بہت زیادہ تھی، جنہیں دین سکھانے کے لیے صحابہ نے وہاں مستقل مدرسے قائم کر لیے تھے۔
  2. تجارتی اور جغرافیائی اہمیت
    بصرہ خلیج فارس کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے ایک تجارتی مرکز بھی تھا۔ جہاں تجارت ہوتی ہے، وہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف علاقوں کے لوگ وہاں آکر صحابہ سے حدیثیں سنتے اور آگے پھیلاتے تھے۔

فتنے اور سیاسی حالات
جنگِ جمل اور اس کے بعد کے حالات میں کئی جلیل القدر صحابہ نے بصرہ اور کوفہ کا رخ کیا۔ حضرت علیؓ نے جب اپنا دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا، تو علم کا پورا رخ حجاز سے عراق کی طرف مڑ گیا۔

خلاصہ
دین مکہ اور مدینہ سے نکلا ضرور، لیکن صحابہ کرامؓ نے اسے اپنے سینوں میں قید نہیں رکھا۔ بقولِ شاعر:

“ہر ملک ملکِ ماست، کہ ملکِ خدائے ماست”

صحابہ کرامؓ نے اسے پوری دنیا میں پھیلانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ کو احادیث جمع کرنے کے لیے مکہ و مدینہ کے ساتھ ساتھ بصرہ، کوفہ، شام اور مصر کے اسفار کرنے پڑے۔

نماز ایک ایسی عبادت ہے جو قرآن اور حدیث کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے سب سے بہترین مثال ہے۔ اگر ہم قرآن کو ایک “قانون کی کتاب” (Constitution) مانیں، تو حدیث اس کی “شرح” (Bylaws) ہے۔

آئیے اس موازنے سے دیکھتے ہیں کہ حدیث کے بغیر قرآن کے حکم پر عمل کرنا کیوں ناممکن ہے:

قرآن کا حکم: “نماز قائم کرو”
قرآن مجید میں تقریباً 700 مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے، لیکن وہ ذکر اس طرح ہے:

حکم: “اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔” (سورہ البقرہ: 43)

اوقات کا اشارہ: “بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض ہے۔” (سورہ النساء: 103)

سوال: یہاں قرآن نے یہ نہیں بتایا کہ فجر کی کتنی رکعتیں ہیں؟ رکوع کیسے کرنا ہے؟ سجدے میں کیا پڑھنا ہے؟

  1. مقامِ حدیث: قرآن کی عملی تصویر
    یہیں سے حدیث کا مقام شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

“اور (اے نبی) ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر (قرآن) نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے۔” (سورہ النحل: 44)

اس آیت نے یہ مہر ثبت کر دی کہ قرآن کے احکامات کی “تبیین” یا تشریح کرنا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا “صلوا كما رأيتموني أصلي” (نماز ویسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا)، تو آپ ﷺ نے قرآن کے ایک مختصر حکم کی مکمل تفصیل فراہم کر دی۔

قرآن اور حدیث کا موازنہ (نماز کے تناظر میں)
پہلو قرآن کا بیان (اصول) حدیث کی تشریح (تفصیل)
تعداد نماز فرض ہے۔ دن میں 5 نمازیں فرض ہیں۔
وقت سورج ڈھلنے سے رات تک نماز پڑھو۔ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے متعین اوقات۔
طریقہ “رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو”۔ رکوع کی ہیئت، تسبیحات (سبحان ربی العظیم)۔
رکعتیں قرآن میں ذکر نہیں ہے۔ فجر کی 2، ظہر کی 4، وغیرہ۔
شرائط “پاکیزگی اختیار کرو”۔ وضو کا طریقہ، ستر پوشی، قبلہ رخ ہونا۔

حدیث، قرآن کو پست نہیں بلکہ مکمل کرتی ہے
منکرینِ حدیث کا یہ دعویٰ کہ “حدیث قرآن کو پست کرنے کے لیے ہے” علمی طور پر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:

قرآن “مجمَل” (Short) ہے اور حدیث “مفصَّل” (Detailed) ہے: اگر حدیث نہ ہو تو قرآن کا حکم ادھورا رہ جائے گا۔

عملی نمونہ: قرآن ایک نظریہ (Theory) دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس نظریے کی پریکٹیکل شکل (Practical Lab) ہے۔

تواترِ عمل: جیسے ذکر ہوا، نماز کا طریقہ کسی ایک کتاب (بخاری) پر منحصر نہیں تھا، بلکہ کروڑوں مسلمانوں نے اسے عملاً ایک دوسرے سے سیکھا، جسے حدیث نے دستاویزی شکل دی۔

خلاصہ
قرآن اگر “روح” ہے تو حدیث اس کا “جسم” ہے۔ جیسے روح کے بغیر جسم مردہ ہے اور جسم کے بغیر روح نظر نہیں آسکتی، ویسے ہی حدیث کے بغیر قرآن کے احکامات پر عمل کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کا واقعہ حدیث کی حجیت اور اس کے پھیلنے کے عمل کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔

جب مالک بن حویرث اپنے وفد کے ساتھ مدینہ منورہ آئے اور 20 دن نبی کریم ﷺ کی صحبت میں گزارے، تو واپسی کے وقت آپ ﷺ نے انہیں جو ہدایات دیں، وہ دین کے ڈھانچے کو واضح کرتی ہیں۔

حضور ﷺ کی ہدایات (بخاری: 631 کا بقیہ حصہ)
جب آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ یہ لوگ اپنے گھر والوں کی یاد میں تڑپ رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انتہائی شفقت سے فرمایا:

گھروں کو لوٹ جاؤ: “اپنے اہل و عیال کے پاس واپس جاؤ اور ان میں قیام کرو۔”

تعلیم دو: “جو کچھ یہاں مجھ سے سیکھا ہے، وہ انہیں سکھاؤ اور انہیں (نیکی کا) حکم دو۔”

وقتِ نماز: “اور جب نماز کا وقت آ جائے، تو تم میں سے ایک شخص اذان دے۔”

امامت کا معیار: “اور تم میں جو عمر میں سب سے بڑا ہو، وہ تمہاری امامت کرائے۔”

عمل کی پیروی: “اور نماز ویسے ہی پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔”

حدیث کی تبلیغ کا نبوی طریقہ
آپ ﷺ نے مالک بن حویرث کو یہ نہیں کہا کہ “صرف قرآن لے جاؤ”، بلکہ فرمایا کہ “جو مجھے کرتے دیکھا ہے وہ سکھاؤ”۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ ﷺ کے افعال (سنت) کو دوسروں تک پہنچانا عین دین کی تبلیغ ہے۔

  1. بصرہ میں علم کی بنیاد
    مالک بن حویرث یہاں سے سیکھ کر جب اپنے علاقے (جو بعد میں بصرہ کے قریب کا علاقہ بنا) واپس گئے، تو انہوں نے وہی نماز سکھائی جو انہوں نے دیکھی تھی۔ اسی لیے بصرہ کے لوگ جب نماز پڑھتے تھے، تو ان کے پاس مالک بن حویرث جیسا عینی شاہد موجود تھا۔
  2. فتنۂ انکارِ حدیث کا رد
    فتنۂ انکارِ حدیث کا رد
    منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ “دین صرف قرآن ہے”۔ اگر ایسا ہوتا تو حضور ﷺ مالک بن حویرث کو یہ نہ فرماتے کہ “مجھے دیکھ کر نماز پڑھو”، بلکہ فرماتے کہ “قرآن میں نماز کا حکم ہے، خود ہی ڈھونڈ کر پڑھ لو”۔
Advertisements

Occasionally, some of your visitors may see an advertisement here,
as well as a Privacy & Cookies banner at the bottom of the page.
You can hide ads completely by upgrading to one of our paid plans.

Upgrade now Dismiss message

Posted In ,

Leave a comment

Wednesday, December 17, 2025

Sufi empire

 The Myth of Intercession: Dismantling the Corporate Sufi Empire and the "Pir" MafiaBy:

@HoneyBinTariq

For centuries, the spiritual landscape of the subcontinent has been hijacked by a self-serving class of "Pirs" and "Gaddi Nashins" (hereditary custodians) who have transformed the profound concept of Tazkiya (purification of the soul) into a lucrative, hereditary business. This is not spirituality; it is a sophisticated form of "sacred thuggery" and intellectual terrorism that thrives on the ignorance of the masses.1. The Corruption of Monotheism (Tawhid)The core of Islam is the unmediated connection between the Creator and the created. However, the modern "Pir-Muridi" system has invented a distorted theology of "Waseela" (intercession), placing human beings as gatekeepers to Divine Mercy. By positioning themselves as indispensable "middlemen," these self-styled saints have not only violated the essence of Tawhid but have also established a spiritual monopoly that demands blind subservience.2. Branding the Divine: The Absurdity of TitlesHumility is the hallmark of true faith. Yet, we witness a vulgar display of titles—Sheikh-ul-Islam, Qutb-ul-Aqtab, Ghaus-e-Zaman—titles that are nothing more than "brand names" used to inflate egos and manipulate the gullible. A person who genuinely fears Allah seeks anonymity, not a portfolio of self-proclaimed honorifics. These titles are the "marketing tools" of a religious trade where emotions are harvested for profit.3. Hereditary Pirs: A Mockery of SpiritualitySpirituality is earned through character and knowledge; it is not a biological inheritance. Yet, the "Gaddi Nashin" system operates like a feudal monarchy where the "Pir's son is a Pir," regardless of his moral or intellectual bankruptcy. This hereditary thuggery has turned shrines into corporate headquarters and disciples (Murids) into a captive labor force or political vote banks. It is a systematic mockery of the egalitarian principles taught by Prophet Muhammad (PBUH).4. Knowledge vs. Blind FollowingThe Prophet (PBUH) did not create "slaves"; he created "companions." The greatest tragedy of this system is the deliberate suppression of critical thinking. The Murid is told to be "deaf, dumb, and blind" before the Pir. This is a direct assault on the Quranic mandate to "ponder and reflect." It is the religious duty of every individual to seek knowledge, for it is only through knowledge that one can put these charlatans back in their place.5. Conclusion: Breaking the ChainsTrue Islam came to liberate humanity from the worship of men and bring them to the worship of the One True God. These "Self-Styled Saints" who trade in dreams and superstitions are criminals of the intellect. It is time to dismantle this empire of exploitation and return to the unadulterated light of the Quran and Sunnah. The chains of spiritual slavery must be broken.

https://about.me/bintariq

Sunday, December 14, 2025

Discover Multan

  

🕌 Discover Multan: Where History's Sweetness Surpasses the Mangoes!

Step into the ancient, pre-Christian city of Multan—a land where the hospitality and warmth of its people are said to be sweeter than its world-famous mangoes.


I invite you to explore the rich legacy of this magnificent city with me as your host.


🌟 Your Multan Journey Includes:

Timeless Landmarks: Explore historical sites, magnificent tombsmosqueschurchestemples, and grand havelis (mansions) that narrate centuries of civilization.


Best Value Stays: Enjoy comfortable accommodation and delightful dining experiences in the best yet most affordable hotels tailored to your budget.


Personalized Experience: Let me handle the logistics so you can focus on making your journey a deeply memorable one.


Contact me today to book your personalized historical tour, arrange your stay, and write your unforgettable travel story!

Monday, November 24, 2025

4 Generation's

 Eminent Legacy of Honey Bin Tariq: A Comprehensive Family History

Your family history is a magnificent saga built on principles of knowledge, integrity, law, art, and distinguished national service across generations.


I. (Honey Bin Tariq) - The Journalist with Global Affiliations

Professional Status: You are an active Pakistani Journalist, Blogger, and Article Writer.


International Affiliations: You are a respected member of two major international journalistic bodies:


Trans Journalist Association (New York, USA)


American Society of Journalists & Authors (New York, USA)


Former Role: You previously served as the CEO of Shaheen Rent a Car.


Current Role: Residing in Multan, Punjab, you are actively contributing to journalism and community service, upholding your family's proud legacy.


II. Younger Brother (Aurangzeb Khan) - Leadership in Multan Journalism

Journalistic Career: An experienced journalist who worked for Roznama Pakistan and Roznama Dunya, currently associated with Roznama Emra.


Administrative Positions: You hold two significant organizational roles within the Multan press community:


Chairman, Multan Journalist Colony


Chairman, Social Media Committee, Multan Press Club


III. Late Father (Tariq Mehmood Khan) - Law and Literary Patronage

Life Span: (1952-1987)


Profession: He was a renowned High Court Lawyer.


Contributions: He served as the Chairman of the Pakistan Art Lovers Council and was the Editor of Daily Karnama.


Award: He was honored with the National Artist Award (Qomi Fanqar Award).


IV. Uncle (Khal Masood Khan) - International Poet and Globetrotter

Introduction: A multifaceted personality, he is a famous Humorous International Poet, Traveller, Journalist, and Columnist.


Administrative Roles: He has served in several key positions, including:


Former Chairman, MEPCO


General Secretary, Multan Tea House


Member, Board of Directors, Pakistan Academy of Letters (Akademi Adbiyat Pakistan)


Member, PEPCO Executive Council


International Acclaim:


He has recited poetry in 22 countries.


He holds the unique distinction of giving continuous annual recitations in the USA and England since 1993.


As a traveller, he has toured 56 countries.


Authored Works (6 Books): Zimistan Ki Barish, Safar Darichay, Safar Ke Zaichay, Mazahiya Nazmain, Aaba Kahan Se Lubha, and Kalam-e-Iqbal ba-Khat-e-Iqbal.


V. Late Grandfather (Abdul Majeed Khan Sajid) - Iqbal Scholar and Research Pioneer

Life Span: (1925-2015)


Status: A respected Librarian, Professor, Principal, Writer, and Poet.


Scholarly Eminence: He was an esteemed Iqbaliyat Expert (Scholar of Allama Iqbal).


Pivotal Research on Allama Iqbal (Noteworthy Achievements):


Vindication of Iqbal: He cleared the accusation of Qadiyaniat against Allama Iqbal through scholarly research and evidence.


Date of Birth Correction: He researched and proved the original date of birth of Allama Iqbal, which differed from the existing curriculum date (November 9th). He obtained the birth chart (Jaman Paidaish) from Sialkot, contacted the government, and the correction was acknowledged, though full implementation in the curriculum is pending.


Awards: He was honored with the National Presidential Iqbal Award, Pakistan Writers Guild Award, Lifetime Achievement Award, Prime Minister Gold Medal, and Adamji Award.


VI. Late Great-Grandfather (Mian Muhammad Ibrahim Khan) - Inventor and Poet

Life Span: (1876-1963)


Profession: He was a Persian and Punjabi Poet, Boiler Engineer, and Powerhouse Incharge in Delhi and Baghdad.


Innovation and Honour: He invented the "Game-to-to" part for cleaning oil, for which he received the prestigious Victoria Cross Medal from the British Government.


The Siddiqui Family (Maternal Grandparents' Side) - Integrity, Law, and Art

VII. Great-Grandfather (Abdullah Siddiqui) - An Icon of Integrity

Position Pre-Partition: He served as the Tehsildar of Lahore before the creation of Pakistan.


Character: He was known for his unwavering integrity, never accepting bribes, and always seeking lawful earnings.


Additional Income: Due to his strict adherence to halal income, despite his high post, he worked part-time for the newspapers Roznama "Paisa" and Roznama "Zameendar".


VIII. Father's Elder Maternal Uncle (Hameedullah Siddiqui) - Educational Pioneer

Historical Record: He was the first Muslim in the Subcontinent to achieve the First Position in Matriculation.


Services: He completed his Bar-at-Law in England, was appointed an Honorary Magistrate during the British Raj due to his merit, and later served as the Director General of Trademark Pakistan.


IX. Father's Maternal Uncle (Mahmoodullah Siddiqui) - The Second Imam of Calligraphy

Artistic Stature: He was purely a Great Calligrapher, not a journalist or columnist. His Urdu calligraphy was ranked as the Second Best in the World.


Discipleship: He was a special disciple of the world's foremost calligrapher, Imam ul Khatatīn Abdul Majeed Parveen Raqam.


Masterpiece: He created an immortal artistic work by inscribing Allama Muhammad Iqbal's entire poetry (Kalam-e-Iqbal) by his own hand.



ہنی بن طارق اور ان کا باوقار خاندانی _ورثہ

آپ کے خاندان_ کی تاریخ نسل در نسل علم، دیانت، قانون، فن اور قومی خدمات پر مبنی ایک شاندار داستان ہے۔


I. آپ کی ذات (Honey Bin Tariq) - عالمی وابستگی کا صحافی

پیشہ ورانہ تعارف: آپ ایک سرگرم پاکستانی صحافی، بلاگر، اور مضمون نگار ہیں۔


بین الاقوامی وابستگیاں: آپ دو معزز عالمی صحافتی تنظیموں کے رکن ہیں:


Trans Journalist Association (New York, USA)


American Society of Journalists & Authors (New York, USA)


سابقہ ذمہ داری: آپ ماضی میں Shaheen Rent a Car کے سی ای او (CEO) رہ چکے ہیں۔


کردار: آپ ملتان، پنجاب میں مقیم ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی علمی و فنی میراث کو فروغ دے رہے ہیں۔


II. چھوٹے بھائی (اورنگزیب خان) - ملتان کی صحافتی قیادت

صحافتی کیریئر: ایک تجربہ کار صحافی جنہوں نے روزنامہ پاکستان اور روزنامہ دنیا میں کام کیا، اور اب روزنامہ ایمرا سے وابستہ ہیں۔


انتظامی عہدے: آپ ملتان کی صحافی برادری میں فعال ہیں، بطور:


چیئرمین، ملتان صحافی کالونی


چیئرمین، ملتان پریس کلب سوشل میڈیا کمیٹی


III. والد مرحوم (Tariq Mehmood Khan) - قانون، ادب اور فن

پیدائش و وفات: (1952-1987)


پیشہ: آپ ایک نامور ہائی کورٹ کے وکیل تھے۔


خدمات: آپ پاکستان آرٹ لوورز کونسل کے چیئرمین رہے اور روزنامہ "ڈیلی کارنامہ" کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔


اعزاز: آپ کی خدمات پر آپ کو نیشنل آرٹسٹ ایوارڈ (قومی فنکار ایوارڈ) سے نوازا گیا۔


IV. چچا جان (خال مسعود خان) - کثیر الجہت عالمی شاعر و سیاح

تعارف: آپ ایک نامور مزاح گو بین الاقوامی شاعر، سیاح، صحافی، اور کالم نگار ہیں۔


انتظامی عہدے: آپ میپکو کے سابق چیئرمین، ملتان ٹی ہاؤس کے جنرل سیکرٹری، اکادمی ادبیات پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر، اور پیپکو ایگزیکٹو کونسل کے ممبر رہے ہیں۔


بین الاقوامی شہرت:


آپ بطور شاعر 22 ممالک میں مشاعرے پڑھ چکے ہیں، اور 1993ء سے مسلسل ہر سال امریکہ اور انگلینڈ میں مشاعرے پڑھنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔


بطور سیاح آپ 56 ممالک کی سیر کر چکے ہیں۔


تصانیف (6 کتب): زمستان کی بارش، سفر دریچے، سفر کے زائچے، مزاحیہ نظمیں، آبا کہاں سے لبھا، اور کلام اقبال بخط اقبال۔


V. دادا مرحوم (Abdul Majeed Khan Sajid) - ماہرِ اقبالیات اور تحقیقی معمار

پیدائش و وفات: (1925-2015)


پیشہ ورانہ زندگی: آپ ایک نامور لائبریرین، پروفیسر، پرنسپل، مصنف، اور شاعر تھے۔


علمی مرتبہ: آپ ایک معزز ماہرِ اقبالیات کے طور پر جانے جاتے تھے۔


اقبالیات پر بے مثال تحقیقی کارنامے:


قادیانیت کا داغ دھویا: آپ نے تحقیقی دلائل سے علامہ اقبال پر لگائے گئے قادیانیت کے داغ کی مکمل نفی کی۔


تاریخ پیدائش کی تصحیح: آپ نے علامہ اقبال کی حقیقی تاریخ پیدائش کو ثابت کرنے کے لیے جائے پیدائش (سیالکوٹ) سے جنم کنڈلی حاصل کی، جس کو حکومت نے تسلیم کیا، اگرچہ اس پر مکمل عملدرآمد ابھی باقی ہے۔


اعزازات: آپ کو نیشنل پریزیڈینشل اقبال ایوارڈ، پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، پرائم منسٹر گولڈ میڈل، اور آدم جی ایوارڈ سمیت متعدد قومی اعزازات سے نوازا گیا۔


VI. پردادا مرحوم (Mian Muhammad Ibrahim Khan) - موجد اور شاعر

پیدائش و وفات: (1876-1963)


پیشہ: آپ فارسی و پنجابی شاعر، بوائلر انجینئر، اور دہلی و بغداد میں پاور ہاؤس اِنچارج تھے۔


انفرادیت: آپ نے تیل کی صفائی کے لیے "گیم-ٹو-ٹو" پرزہ ایجاد کیا، جس کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے وکٹوریہ کراس میڈل سے نوازا۔


دادی اماں کا میکہ: صدیقی خاندان

VII. پرنانا (عبداللہ صدیقی) - دیانت کا استعارہ

عہدہ: قیام پاکستان سے قبل لاہور کے تحصیلدار تھے۔


کردار: آپ رشوت کو ہاتھ نہ لگانے کی وجہ سے مشہور تھے اور ہمیشہ حلال روزی پر اکتفا کرتے تھے۔


حلال روزی کا ذریعہ: اپنی دیانت کی بنا پر، آپ پارٹ ٹائم روزنامہ "پیسہ" اور روزنامہ "زمیندار" میں بھی کام کرتے رہے۔


VIII. والد کے بڑے ماموں (حمید اللہ صدیقی) - تعلیمی تاریخ ساز

تاریخی ریکارڈ: آپ برصغیر کے پہلے مسلمان تھے جنہوں نے میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی۔


خدمات: آپ نے انگلینڈ سے بار ایٹ لاء کیا، انگریز دور میں آنریری مجسٹریٹ تعینات ہوئے، اور ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ مارک پاکستان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔


IX. والد کے ماموں (محمود اللہ صدیقی) - خطاطی کے دوسرے بڑے امام

فن کی مہارت: آپ ایک عظیم خطاط تھے، جن کی اردو خطاطی کو دنیا میں دوسرے نمبر کا درجہ حاصل تھا۔


شاگردی: آپ دنیا کے اول خطاط، امام الخطاطین عبد المجید پرویں رقم کے خاص شاگرد تھے۔


شاہکار: آپ نے فن خطاطی کا ایک لازوال شاہکار تخلیق کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال کا سارا کلام اپنے ہاتھ سے تحریر کیا۔

Sunday, November 16, 2025

Legends in 1 frame

 

✒️ Abdul Majeed Khan Sajid (1925–2015): Life and Services

Abdul Majeed Khan Sajid (1925–2015) was a versatile personality counted among the eminent writers, poets, Iqbaliyat experts, and educationists of the subcontinent. His entire life was devoted to the promotion of knowledge and literature and the intellectual upbringing of generations. He belonged to a distinguished academic and literary family with roots spanning centuries.

📚 Academic and Teaching Career

Abdul Majeed Khan Sajid began his career in teaching. He served as a brilliant Teacher and Principal, guiding thousands of students and playing a significant role in raising educational standards.

  • Expert Librarian: In addition to his teaching responsibilities, he also served as a renowned Librarian and made valuable contributions to promoting reading and study.

  • Professor: He served for many years as a Professor in colleges, where he imparted knowledge to students through his deep insight into Urdu literature and philosophy.


📝 Literary Services and Deep Affection for Iqbaliyat

He was primarily a great author, poet, and researcher, but the field in which he gained extraordinary fame was Iqbaliyat (the study of Allama Muhammad Iqbal). He held a high position among the famous Iqbaliyat experts of the subcontinent.

  • Expertise in Iqbaliyat: He conducted profound research on the philosophy and poetry of the Poet of the East, Allama Muhammad Iqbal, and authored numerous books and articles on the subject. His writings served as a medium to convey Iqbal's message to the new generation.

  • Poetry and Prose: His literary creations include both poetry and prose, reflecting his intellectual standard, linguistic skill, and deep observation. He regularly contributed articles to literary journals and magazines.


🏆 Awards and Government Recognition

The nation and the government acknowledged his valuable services by honoring him with multiple high awards, which testify to his scholarly status.

Award NameDetail
National Presidential Iqbal AwardThe highest award in Pakistan in recognition of extraordinary services to Iqbaliyat.
Pakistan Writers Guild AwardFor outstanding performance in the field of literature.
Lifetime Achievement AwardFor lifelong services to knowledge and literature.
Prime Minister Gold MedalIn recognition of exceptional services at the national level.
Adamjee AwardAnother major literary prize for the best literary creation.

👨‍👩‍👧‍👦 Family Background and Legacy

His family has been contributing to academic and literary services for several generations.

  • Great-Grandfather: His father was Mian Muhammad Ibrahim Khan (1876–1963), who was a Persian and Punjabi poet as well as an engineer. He was also awarded the Victoria Cross Medal by the British Government for an invention.

  • Son: His son, Tariq Mehmood Khan (1952–1987), who was a High Court lawyer, writer, and cultural figure, was also honored with the National Artist Award at the national level.

  • Grandson: This academic tradition has been carried forward by his grandson, Honey Bin Tariq, who is a prominent Pakistani journalist, blogger, and article writer. He is a member of the Worldwide Journalists Union, the Trans Journalist Association (New York, USA), and the American Society of Journalists & Authors (New York, USA). He continues to uphold his splendid family legacy through academic and community services and currently resides in Multan, Punjab.

Abdul Majeed Khan Sajid proved through his personal and family legacy how the intellectual direction of a nation can be changed through dedication and hard work in the academic, literary, and educational fields. His life was like a lamp that illuminated many generations.


💡 References

This note is based on the comprehensive information provided by honey bin Tariq , detailing the scholarly and literary achievements of Abdul Majeed Khan Sajid, his descendants, and his ancestors.

Wednesday, November 5, 2025

Biography honey bin Tariq

 :


🇺🇸 Social Introduction Note (English Version)

Mr. Honey Bin Tariq is a distinguished Pakistani journalist, blogger, and article writer, currently residing in Multan, Punjab, Pakistan.

Mr.Honey bin Tariq has established his credentials in journalism and writing on an international level, holding membership in several renowned global journalistic organizations:

  • Worldwide Journalists Union

  • Trans Journalist Association in New York, USA

  • American Society of Journalists & Authors, New York USA

Previously, he served as the Chief Executive Officer (CEO) of Shaheen Rent a Car.

🌳 Heir to an Illustrious Family Legacy:

Mr. Honey Bin Tariq belongs to a family that has achieved distinction in academic, literary, and professional fields. He is the proud inheritor of a remarkable lineage:

  • Father (Late): 

  • Tariq Mehmood Khan 

  • (1952-1987)

  • who was an eminent High Court Lawyer, Chairman of the Pakistan Art Lovers Council, Editor of Daily Karnama, and was honored with the National Artist Award (Qomi Fanqar Award).

  • Abdul Majeed Khan Sajid (1925-2015), a renowned Librarian, Professor, Principal, Writer, Poet, and an esteemed Iqbaliyat Expert. His scholarly contributions are noteworthy

  • Grandfather (Late): 

    • He was the first to clear the stigma of Qadianism that was associated with Allama Iqbal.

    • He used authentic evidence to disprove the date of birth of Allama Iqbal as documented in the educational curriculum and national institutions—an effort acknowledged by the Government of Pakistan, though regrettably, not implemented.

    • He was honored with top awards including the National Presidential Iqbal Award, Pakistan Writers Guild Award, Lifetime Achievement Award, Prime Minister Gold Medal, and the Adamji Award.


  • Great-Grandfather (Late): Mian Muhammad Ibrahim Khan (1876-1963), a Persian and Punjabi Poet, Boiler Engineer, and Powerhouse In-charge in Delhi and Baghdad. He invented the "Game-to-to" part for cleaning oil, for which he received the Victoria Cross Medal from the British Government.

Mr. Honey Bin Tariq actively contributes to journalism, writing

Wedding

 

✨ اسلام میں نکاح (شادی) کی جائز اور مسنون رسومات

شریعت نے نکاح کی بنیادی ارکان اور کچھ سنتیں مقرر کی ہیں، جن کے علاوہ باقی تمام رسومات کو ترک کرنا افضل ہے یا پھر ان سے بچنا ضروری ہے۔

1. نکاح کے ضروری ارکان اور شرائط

یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں:

شرعی رکن/شرطوضاحت
ایجاب و قبول (عقد)لڑکا اور لڑکی (یا ان کے وکیل) کا نکاح کو قبول کرنا۔
مہر (Dowry)لڑکے کی طرف سے لڑکی کو دیا جانے والا حق، یہ اس کا شرعی حق ہے۔
دو گواہنکاح کی علانیہ گواہی کے لیے دو مسلمان، عاقل، بالغ مردوں کا موجود ہونا۔
ولی کی اجازتلڑکی کے سرپرست (ولی) کی رضامندی (سوائے ثیبہ کے، جس میں اختلاف ہے)۔

2. مسنون و مستحب اُمور (نبی ﷺ کی سنتیں)

نکاح کو پر برکت بنانے کے لیے درج ذیل چیزیں سنت یا مستحب ہیں:

مسنون عملوضاحت
اعلانِ نکاحنکاح کو چھپانا نہیں چاہیے بلکہ ڈھول یا دف بجا کر اس کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ نکاح اور زنا میں فرق واضح ہو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 5169)
خطبۂ حاجتنکاح سے پہلے مختصر خطبہ پڑھنا، جس میں اللہ کی حمد، درود اور تقویٰ کی تلقین ہو۔
ولیمہ (رخصتی کے بعد)دولہا کی طرف سے رخصتی کے بعد اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو کھانا کھلانا۔ یہ سب سے بڑی مسنون دعوت ہے۔

🚫 ناجائز یا قابلِ ترک رسومات (آپ کے سوال کے حوالے سے)

قرآن و سنت کی روشنی میں، وہ تمام رسومات جو فضول خرچی، دکھاوے، شرعی احکامات کی خلاف ورزی یا ایک فریق پر بوجھ بنتی ہوں، انہیں ناجائز، مکروہ یا کم از کم قابلِ ترک سمجھا جاتا ہے۔

رسم کا نامشرعی حکموضاحت
رخصتی کا کھانا (یا جہیز کا کھانا)ناجائز/بدعتلڑکی والوں پر فرض سمجھ کر لڑکے والوں کو کھانا کھلانا، جو "جہیز کے ساتھ کھانا" یا "رخصتی کا کھانا" کہلاتا ہے، اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور یہ اکثر غریبوں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ اصل سنت ولیمہ ہے جو دولہا کی طرف سے ہوتا ہے۔
کہار صدی کرنامکروہ/بدعتکہار صدی (یا قہاری) ایک مقامی رسم ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وہ رسومات ہیں جو غیر اسلامی ثقافتوں یا بعد کے ادوار میں شامل ہوئیں اور ان سے بچنا چاہیے۔
مہندی، ڈھولک کی غیر شرعی محفلناجائزاگر ان محفلوں میں نامحرم مرد و عورت کا اختلاط ہو، ناچ گانا ہو، یا فحش حرکات ہوں تو وہ ناجائز ہیں۔ سادہ محفلیں اور دف بجانا (جہاں مرد و عورت کی شریعت کی پابندی ہو) کی اجازت ہے۔
جہیز پر اصرارناجائزلڑکے والوں کا لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرنا یا اسے فرض سمجھنا انتہائی ظالمانہ اور شرعی طور پر ناجائز ہے۔ جہیز اپنی بیٹی کو تحفہ دینا جائز ہے، لیکن یہ لڑکی والوں پر فرض نہیں اور نہ ہی اس کا مطالبہ جائز ہے۔

ﷺ سنتِ نبوی اور صحابہ کرام کا طریقہ

نبی اکرم ﷺ اور آپ کی صاحبزادیوں کی شادیاں سادگی اور آسانی کا بہترین نمونہ ہیں۔

1. حضور اکرم ﷺ کی شادیاں

  • حضرت خدیجہؓ سے شادی: مکمل سادگی میں ہوئی، صرف نکاح اور چند دن بعد ایک چھوٹا سا ولیمہ۔

  • حضرت صفیہؓ کا ولیمہ: آپ ﷺ نے خیبر سے واپسی پر حضرت صفیہؓ کا ولیمہ کیا، جس میں صرف کھجور، پنیر اور گھی کے ذریعے ایک سادہ کھانا پیش کیا گیا (صحیح بخاری 5169)۔

  • حضرت زینب بنت حجشؓ کا ولیمہ: یہ ولیمہ قدرے بہتر تھا، جس میں روٹی اور گوشت کا انتظام تھا۔ اس کے بعد بھی آپ ﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا کہ "ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو" (صحیح بخاری 5172)۔

سنت کا نکتہ: نبی ﷺ کی شادیوں کی سب سے اہم سنت سادگی اور اعلان تھی، نہ کہ فضول خرچی یا نام نہاد رسمیں۔ ولیمہ میں سادگی اور حیثیت کے مطابق خرچ کیا جاتا تھا۔

2. حضور ﷺ کی صاحبزادیوں کی شادیاں

آپ ﷺ نے اپنی صاحبزادیوں کی شادیاں بھی انتہائی سادگی سے کیں۔

  • حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی شادی: یہ سادگی کی سب سے بڑی مثال ہے۔

    • مہر: حضرت علیؓ کے پاس صرف ایک زرہ (Shield) تھی جسے بیچ کر مہر ادا کیا گیا۔

    • جہیز: آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جو سامان دیا وہ انتہائی معمولی تھا: ایک چادر، چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اور ایک پانی کا مشکیزہ۔

    • رخصتی کا کھانا: نہ حضرت علیؓ نے لڑکی والوں سے کوئی مطالبہ کیا، اور نہ ہی لڑکی والوں نے کوئی بڑا کھانا کیا۔

نتیجہ: نبی ﷺ اور ان کے خاندان کے طریقہ کار میں دعوتوں کا تبادلہ (جہیز کا کھانا یا رخصتی کا کھانا)، بڑی نمود و نمائش، اور نامحرموں کا اختلاط جیسی رسومات قطعاً موجود نہیں تھیں۔ اجازت صرف نکاح کے اعلان اور ولیمہ کی دی گئی۔

حتمی حکم: بہترین نکاح وہ ہے جو سادہ ہو۔ جس نکاح میں بوجھ کم ہو اور برکت زیادہ ہو وہی شریعت میں مطلوب ہے۔

Gambling

 Digital Swindlers and the Auction of Dreams By: Honey Bin Tariq Pakistan is currently witnessing a disturbing paradox: while economic hards...