fake
By
Don’t be deceived, not everything in this world is real; sometimes they are just fictional tales. This is the magic of Artificial Intelligence.”



Honey Bin Tariq is a Pakistani journalist, blogger, and article writer with a strong background in journalism and community service. Here's a brief overview of his profile: *Career Highlights* - *Journalism and Blogging*: Honey Bin Tariq has worked with various publications, including Daily Karnama, Daily Pakistan, and Abb News. - *Organizational Memberships*: He is a member of the American Society of Journalists and Authors, Trans Journalists Association, and Multan Press Club.
Don’t be deceived, not everything in this world is real; sometimes they are just fictional tales. This is the magic of Artificial Intelligence.”



By
Honey Bin Tariq
By: Honey Bin Tariq (Journalist & Researcher)
Islamic Sharia is derived from two primary sources: the Holy Quran and the Sunnah of the Prophet (PBUH). In the contemporary era, certain circles are attempting to create skepticism by questioning the legal status of Hadith. This article provides a scholarly and rational critique of these doubts.
It is a common misconception that the compilation of Hadith began only during the era of Imam Bukhari. The historical reality is quite different:
The Quran establishes the “principles,” while Hadith provides the “details.”
To verify Hadiths, scholars pioneered the science of “Asma al-Rijal” (Biographical Evaluation), a feat unparalleled in world history.
Later scholars (Bukhari, Muslim, etc.) collected these Hadiths with various chains (Isnad), which is why the total number of narrations appears to be in the millions, though the core text remained consistent with what the early Imams of Jurisprudence held.
The question of “how did the faith reach Basra?” is answered by the migration of the Companions. Hundreds of Sahaba (such as Anas bin Malik and Malik bin Huwayrith) settled in Basra and Kufa to propagate the religion. They established educational seminaries, turning these cities into fortresses of Hadith knowledge.
The Quran itself proclaims it: “Whatever the Messenger gives you – take; and what he forbids you – refrain from” (Surah Al-Hashr). The Prophet’s (PBUH) role was not just to “deliver” the message but to “explain” and “teach” it.
Initially, there was a temporary restriction to prevent the mixing of Quranic text with Hadith during the revelation phase. Once the Quran was completed and the Sahaba were confident, the Prophet (PBUH) himself permitted it: “Write from me” (Jami’ at-Tirmidhi).
Absolutely not. If the Quran is the Constitution, Hadith represents the Bylaws. An explanation never degrades the law; it teaches how to implement it.
The text: “Pray as you have seen me praying.” This Hadith is a cornerstone for understanding the practical structure of Islam.
When Malik bin Huwayrith stayed with the Prophet (PBUH) for 20 days, the Prophet (PBUH) told him: “Go back to your families, teach them, and pray as you have seen me praying.” This proves that spreading the Sunnah was a Prophetic command. He settled in Basra, which is why the people of Basra had an eye-witness teaching them the correct method of worship.
The scholars of Hadith dedicated their lives to ensuring that every word and action of the Prophet (PBUH) reached us with integrity. To doubt Hadith is to doubt the entire “chain of reporting” through which we also received the Quran. Hadith is the bridge that teaches us how to live according to the Quranic commands.
حجیتِ حدیث اور فتنہِ انکارِ حدیث: علمی و عقلی جائزہ
تحریر: ہنی بن طارق (صحافی و محقق)
اسلامی شریعت کے دو بنیادی ماخذ ہیں: قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ۔ موجودہ دور میں کچھ حلقوں کی جانب سے احادیثِ مبارکہ کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا کر تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ان تمام شبہات کا علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔
عہدِ نبوی: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کا “صحیفہ صادقہ” اور حضرت علیؓ کا صحیفہ آپ ﷺ کی زندگی میں ہی لکھے جا چکے تھے۔
حفاظت کا نظام: عربوں کا حافظہ بے مثال تھا، وہ ہزاروں اشعار زبانی یاد رکھتے تھے۔ صحابہ نے نہ صرف احادیث کو لکھا بلکہ انہیں اپنی زندگیوں میں عملاً نافذ کر کے “تواتر” سے اگلی نسل تک پہنچایا۔
امام بخاری کا کردار: امام بخاری (متوفی 256ھ) نے احادیث ایجاد نہیں کیں، بلکہ پہلے سے موجود بکھرے ہوئے مستند مجموعوں کو سخت ترین تحقیقی معیار پر پرکھ کر ایک کتاب میں جمع کیا۔
نماز کی مثال: قرآن نے “نماز قائم کرو” کا حکم دیا (سورہ البقرہ)، لیکن رکعتوں کی تعداد اور رکوع و سجود کا طریقہ ہمیں حدیثِ نبوی “صلوا كما رأيتموني أصلي” (صحیح بخاری: 631) سے ملا۔
حدیث کے بغیر قرآن کے 80 فیصد احکامات پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ حدیث قرآن کی “شرح” ہے، اس کی “ضد” نہیں۔
راوی کی جانچ: ہر راوی کے کردار، سچائی اور حافظے کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔
سخت معیار: امام بخاری نے ایسے شخص سے بھی حدیث لینے سے انکار کر دیا جس نے اپنے گھوڑے کو خالی دامن دکھا کر دھوکے سے پکڑا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ جو جانور سے جھوٹ بولے وہ رسول ﷺ کی بات میں معتبر نہیں ہو سکتا۔
بعد میں آنے والے محدثین (بخاری، مسلم وغیرہ) نے انہی احادیث کو مختلف سندوں (Chains) کے ساتھ جمع کیا، جس سے تعداد لاکھوں میں نظر آتی ہے، حالانکہ اصل متن وہی تھا جو ائمہ فقہ کے پاس تھا۔
اشاعتِ دین کے لیے سینکڑوں صحابہ (مثلاً حضرت انس بن مالکؓ اور حضرت مالک بن حویرثؓ) بصرہ اور کوفہ میں مقیم ہوئے۔
انہوں نے وہاں علمی مدرسے قائم کیے، جس کی وجہ سے یہ شہر علمِ حدیث کے قلعے بن گئے۔
خلاصہِ کلام
محدثین نے رسول اللہ ﷺ کے ہر لفظ اور فعل کو ہم تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
حدیث پر شک کرنا دراصل اس پوری “چین آف رپورٹنگ” پر شک کرنا ہے جس کے ذریعے ہمیں قرآن بھی ملا ہے۔
کیا حدیثیں 250 سال بعد لکھی گئیں؟
یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ امام بخاری (متوفی 256ھ) نے احادیث کو مرتب (Categorize) کیا تھا، لیکن کتابتِ حدیث کا سلسلہ عہدِ نبوی ﷺ سے ہی شروع ہو گیا تھا۔
عہدِ نبوی کے مجموعے: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کا “صحیفہ صادقہ”، حضرت علی کا صحیفہ، اور حضرت انس بن مالک کے نوشتہ جات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صحابہ آپ ﷺ کی زندگی میں ہی احادیث لکھتے تھے۔
تابعین کے دور: امام زہری اور امام مالک (مؤطا امام مالک) امام بخاری سے بہت پہلے احادیث مدون کر چکے تھے۔ 250 سال کا عرصہ صرف “صحاح ستہ” کی ترتیب کا ہے، نہ کہ آغازِ تحریر کا۔
قرآن کہتا ہے: “اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ” (سورہ الحشر)۔
قرآن نے رسول ﷺ کا منصب صرف “پہنچانا” نہیں بلکہ “بیان کرنا” اور “تعلیم دینا” بتایا ہے۔ اگر حدیث نہ ہو تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ نماز کی رکعتیں کتنی ہیں یا زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے، کیونکہ قرآن میں ان کی تفصیل نہیں۔
پہلے لوگوں نے کیوں نہیں لکھا؟
شروع میں ممانعت اس لیے تھی تاکہ قرآن اور حدیث آپس میں خلط ملط نہ ہو جائیں۔ جب قرآن مکمل ہو گیا اور صحابہ کو اطمینان ہو گیا، تو آپ ﷺ نے خود اجازت دی: “مجھ سے لکھ لیا کرو” (جامع ترمذی)۔ عربوں کا حافظہ بلا کا تھا، وہ ہزاروں اشعار زبانی یاد رکھتے تھے، اس لیے تحریر سے زیادہ ان کا بھروسہ سینہ بہ سینہ منتقل ہونے پر تھا۔
کیا حدیثیں قرآن کو پست کرنے کے لیے ہیں؟
بالکل نہیں! حدیث قرآن کی تفسیر ہے۔
قرآن اگر “قانون کی کتاب” (Constitution) ہے تو حدیث اس کی “شرح” (Bylaws) ہے۔ شرح کبھی قانون کو پست نہیں کرتی بلکہ اسے نافذ کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔
ایمان کو وسوسوں سے کیسے بچائیں؟
ایمان کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ احادیث کی چھان پھٹک کے لیے مسلمانوں نے “اسماء الرجال” جیسا وہ عظیم الشان فن ایجاد کیا جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک ایک راوی کے کردار، سچائی اور حافظے کی جانچ کی گئی تاکہ جھوٹ کا عنصر نکال باہر کیا جائے۔
یہ وسوسے نئے نہیں ہیں، ہر دور میں اٹھے اور علمائے حق نے ان کے مسکت جوابات دیے۔
کیا آپ چاہیں گے کہ میں کسی مخصوص حدیث یا اس کی سند کی جانچ پڑتال کے طریقے (فنِ حدیث) پر مزید وضاحت کروں؟
صحیح بخاری کی یہ حدیث (نمبر 631) دینِ اسلام کے عملی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے ایک بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس حدیث کے متن اور اس کے سیاق و سباق پر غور کرنے سے آپ کے پچھلے سوالات (انکارِ حدیث کے حوالے سے) کا جواب خود بخود مل جاتا ہے۔
حدیث کا متن
“صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي” (ترجمہ: تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔)
اس حدیث سے حاصل ہونے والے علمی نکات
قرآن اور حدیث کا باہمی تعلق
قرآن مجید میں درجنوں مقامات پر “اقیموا الصلوٰۃ” (نماز قائم کرو) کا حکم آیا ہے، لیکن پورے قرآن میں کہیں یہ درج نہیں کہ:
نماز کی رکعتیں کتنی ہیں؟
رکوع اور سجدہ کس ترتیب سے ہوگا؟
قراءت بلند آواز میں ہوگی یا آہستہ؟
اگر کوئی شخص حدیث کا انکار کر دے، تو وہ قرآن کے اس بنیادی حکم (نماز) پر عمل ہی نہیں کر سکتا۔ یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عمل (سنت) قرآن کی تشریح اور اس پر عمل کا واحد راستہ ہے۔
راوی کا مقام (مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ)
اس حدیث کے راوی حضرت مالک بن حویرث ہیں۔ وہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور 20 دن تک آپ ﷺ کی خدمت میں رہے۔
ان 20 دنوں میں انہوں نے نبی ﷺ کے ہر عمل کا گہرائی سے مشاہدہ کیا۔
یہ محض ایک “سنی سنائی” بات نہیں تھی، بلکہ ایک عینی شاہد (Eye-witness) کی گواہی تھی۔
تدوینِ حدیث پر اعتراض کا جواب
منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ حدیثیں 250 سال بعد لکھی گئیں۔ اب ذرا سوچیں: نبی کریم ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ “مجھے دیکھ کر نماز پڑھو”، تو کیا صحابہ نے نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا اور 250 سال تک انتظار کیا کہ کوئی بخاری آئے گا تو ہم نماز پڑھیں گے؟ ہرگز نہیں! صحابہ نے اسی دن سے اسی طرح نماز پڑھی، پھر ان کو دیکھ کر تابعین نے، اور یہ سلسلہ “تواتر” (Continuous Practice) کے ساتھ ہم تک پہنچا۔ امام بخاری نے صرف اس عمل کو دستاویزی شکل دی جو پہلے سے لاکھوں لوگ کر رہے تھے۔
نتیجہ: اگر ہم اس ایک حدیث (631) کو نکال دیں، تو پوری امت کی نماز مشکوک ہو جائے گی۔ حدیث دراصل وہ پل ہے جو ہمیں قرآن کے احکامات پر عمل کرنا سکھاتا ہے۔
بطور محقق، کیا آپ اس حدیث کی سند (Narrators Chain) یا اس کے کسی فقہی پہلو کے بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہیں گے؟
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 631 کی سند (Chain of Narrators) انتہائی مضبوط اور معتبر ہے۔ امام بخاری نے اس حدیث تک پہنچنے کے لیے جن واسطوں کا استعمال کیا، وہ علمِ حدیث میں “سونے کی زنجیر” کی طرح اہمیت رکھتے ہیں۔
اس کی مکمل چین درج ذیل ہے:
ابوقلابہ (عبداللہ بن زید الجرمی)
ایوب سختیانی نے یہ حدیث ابوقلابہ سے روایت کی (متوفی 104ھ)۔ یہ بہت جلیل القدر تابعی تھے اور بصرہ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے۔
سند کا گراف (Chain Visualization)
س
سند کا گراف پیش کردیا گیا ہے لہزا ابہام ہی نہیں رہتا حدیث میں کوئی گڑبڑ ہے
اتصال (Continuity): اس سند میں کہیں بھی کوئی خلا (Gap) نہیں ہے۔ ہر راوی نے اپنے سے پہلے والے سے براہِ راست ملاقات کی اور حدیث سنی۔
عدالت و ضبط: اس زنجیر کے تمام راویوں کے بارے میں “اسماء الرجال” کی کتب میں لکھا ہے کہ یہ سب انتہائی سچے (عادل) اور بہترین حافظے (ضبط) کے مالک تھے۔
مقامِ بصرہ: اس سند کے اکثر راویوں کا تعلق بصرہ سے ہے، جو اس دور میں علمِ حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کا مرکز مکہ اور مدینہ تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صرف چند ہی دہائیوں میں اسلام کی سرحدیں تیزی سے پھیلیں اور صحابہ کرامؓ دین کی تبلیغ کے لیے دور دراز علاقوں میں ہجرت کر گئے۔
بصرہ میں دین کے پہنچنے اور وہاں علمی مرکز بننے کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
بصرہ کی بنیاد اور فوجی چھاؤنی
بصرہ کوئی قدیم شہر نہیں تھا بلکہ اسے 14ھ (636ء) میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ایک فوجی شہر (Garrison City) کے طور پر بسایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایران (فارس) کی فتوحات کے لیے ایک مضبوط مرکز فراہم کرنا تھا۔ جب لشکر وہاں جاتے تھے، تو ان کے ساتھ بڑی تعداد میں صحابہ کرامؓ بطور معلم اور رہنما بھی موجود ہوتے تھے۔
بصرہ میں قیام کرنے والے صحابہ: ایک اندازے کے مطابق 300 سے زائد صحابہ کرامؓ بصرہ میں مقیم ہوئے۔ ان میں حضرت انس بن مالکؓ (خادمِ رسول ﷺ)، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، اور حضرت عمران بن حصینؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
حضرت مالک بن حویرثؓ: جن کا ذکر آپ نے کیا، وہ بھی بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ اسی لیے ان سے حدیث سننے والے راوی (جیسے ابوقلابہ) بصرہ کے رہنے والے تھے۔
فتنے اور سیاسی حالات
جنگِ جمل اور اس کے بعد کے حالات میں کئی جلیل القدر صحابہ نے بصرہ اور کوفہ کا رخ کیا۔ حضرت علیؓ نے جب اپنا دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا، تو علم کا پورا رخ حجاز سے عراق کی طرف مڑ گیا۔
خلاصہ
دین مکہ اور مدینہ سے نکلا ضرور، لیکن صحابہ کرامؓ نے اسے اپنے سینوں میں قید نہیں رکھا۔ بقولِ شاعر:
“ہر ملک ملکِ ماست، کہ ملکِ خدائے ماست”
صحابہ کرامؓ نے اسے پوری دنیا میں پھیلانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ کو احادیث جمع کرنے کے لیے مکہ و مدینہ کے ساتھ ساتھ بصرہ، کوفہ، شام اور مصر کے اسفار کرنے پڑے۔
نماز ایک ایسی عبادت ہے جو قرآن اور حدیث کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے سب سے بہترین مثال ہے۔ اگر ہم قرآن کو ایک “قانون کی کتاب” (Constitution) مانیں، تو حدیث اس کی “شرح” (Bylaws) ہے۔
آئیے اس موازنے سے دیکھتے ہیں کہ حدیث کے بغیر قرآن کے حکم پر عمل کرنا کیوں ناممکن ہے:
قرآن کا حکم: “نماز قائم کرو”
قرآن مجید میں تقریباً 700 مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے، لیکن وہ ذکر اس طرح ہے:
حکم: “اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔” (سورہ البقرہ: 43)
اوقات کا اشارہ: “بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض ہے۔” (سورہ النساء: 103)
سوال: یہاں قرآن نے یہ نہیں بتایا کہ فجر کی کتنی رکعتیں ہیں؟ رکوع کیسے کرنا ہے؟ سجدے میں کیا پڑھنا ہے؟
“اور (اے نبی) ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر (قرآن) نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے۔” (سورہ النحل: 44)
اس آیت نے یہ مہر ثبت کر دی کہ قرآن کے احکامات کی “تبیین” یا تشریح کرنا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا “صلوا كما رأيتموني أصلي” (نماز ویسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا)، تو آپ ﷺ نے قرآن کے ایک مختصر حکم کی مکمل تفصیل فراہم کر دی۔
قرآن اور حدیث کا موازنہ (نماز کے تناظر میں)
پہلو قرآن کا بیان (اصول) حدیث کی تشریح (تفصیل)
تعداد نماز فرض ہے۔ دن میں 5 نمازیں فرض ہیں۔
وقت سورج ڈھلنے سے رات تک نماز پڑھو۔ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے متعین اوقات۔
طریقہ “رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو”۔ رکوع کی ہیئت، تسبیحات (سبحان ربی العظیم)۔
رکعتیں قرآن میں ذکر نہیں ہے۔ فجر کی 2، ظہر کی 4، وغیرہ۔
شرائط “پاکیزگی اختیار کرو”۔ وضو کا طریقہ، ستر پوشی، قبلہ رخ ہونا۔
حدیث، قرآن کو پست نہیں بلکہ مکمل کرتی ہے
منکرینِ حدیث کا یہ دعویٰ کہ “حدیث قرآن کو پست کرنے کے لیے ہے” علمی طور پر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:
قرآن “مجمَل” (Short) ہے اور حدیث “مفصَّل” (Detailed) ہے: اگر حدیث نہ ہو تو قرآن کا حکم ادھورا رہ جائے گا۔
عملی نمونہ: قرآن ایک نظریہ (Theory) دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس نظریے کی پریکٹیکل شکل (Practical Lab) ہے۔
تواترِ عمل: جیسے ذکر ہوا، نماز کا طریقہ کسی ایک کتاب (بخاری) پر منحصر نہیں تھا، بلکہ کروڑوں مسلمانوں نے اسے عملاً ایک دوسرے سے سیکھا، جسے حدیث نے دستاویزی شکل دی۔
خلاصہ
قرآن اگر “روح” ہے تو حدیث اس کا “جسم” ہے۔ جیسے روح کے بغیر جسم مردہ ہے اور جسم کے بغیر روح نظر نہیں آسکتی، ویسے ہی حدیث کے بغیر قرآن کے احکامات پر عمل کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کا واقعہ حدیث کی حجیت اور اس کے پھیلنے کے عمل کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔
جب مالک بن حویرث اپنے وفد کے ساتھ مدینہ منورہ آئے اور 20 دن نبی کریم ﷺ کی صحبت میں گزارے، تو واپسی کے وقت آپ ﷺ نے انہیں جو ہدایات دیں، وہ دین کے ڈھانچے کو واضح کرتی ہیں۔
حضور ﷺ کی ہدایات (بخاری: 631 کا بقیہ حصہ)
جب آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ یہ لوگ اپنے گھر والوں کی یاد میں تڑپ رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انتہائی شفقت سے فرمایا:
گھروں کو لوٹ جاؤ: “اپنے اہل و عیال کے پاس واپس جاؤ اور ان میں قیام کرو۔”
تعلیم دو: “جو کچھ یہاں مجھ سے سیکھا ہے، وہ انہیں سکھاؤ اور انہیں (نیکی کا) حکم دو۔”
وقتِ نماز: “اور جب نماز کا وقت آ جائے، تو تم میں سے ایک شخص اذان دے۔”
امامت کا معیار: “اور تم میں جو عمر میں سب سے بڑا ہو، وہ تمہاری امامت کرائے۔”
عمل کی پیروی: “اور نماز ویسے ہی پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔”
حدیث کی تبلیغ کا نبوی طریقہ
آپ ﷺ نے مالک بن حویرث کو یہ نہیں کہا کہ “صرف قرآن لے جاؤ”، بلکہ فرمایا کہ “جو مجھے کرتے دیکھا ہے وہ سکھاؤ”۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ ﷺ کے افعال (سنت) کو دوسروں تک پہنچانا عین دین کی تبلیغ ہے۔




Occasionally, some of your visitors may see an advertisement here,
as well as a Privacy & Cookies banner at the bottom of the page.
You can hide ads completely by upgrading to one of our paid plans.
Digital Swindlers and the Auction of Dreams By: Honey Bin Tariq Pakistan is currently witnessing a disturbing paradox: while economic hards...
Leave a comment